21 جنوری 2026 - 13:55
مآخذ: ابنا
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے انروا ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے امداد و روزگارِ فلسطینی مہاجرین (انرووا) کے صدر دفتر پر حملے اور شیخ جراح کمپلیکس کی مسماری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اسرائیل کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے امداد و روزگارِ فلسطینی مہاجرین (انرووا) کے صدر دفتر پر حملے اور شیخ جراح کمپلیکس کی مسماری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

 اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان فرحان حق نے مقامی وقت کے مطابق منگل کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا سیکریٹری جنرل اسرائیلی حکام کی جانب سے انرووا کے شیخ جراح کمپلیکس کو منہدم کرنے کے اقدامات کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ جیسا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل متعدد مرتبہ اور واضح طور پر، جن میں 8 جنوری 2026 کو اسرائیلی وزیرِ اعظم کو لکھا گیا خط بھی شامل ہے، اس بات کا اعلان کر چکے ہیں کہ شیخ جراح کمپلیکس اب بھی اقوامِ متحدہ کی ملکیت ہے اور اسے ہر قسم کی مداخلت اور تجاوز سے محفوظ رہنا چاہیے۔

اقوامِ متحدہ کے نائب ترجمان نے کہا کہ سیکریٹری جنرل انرووا کے خلاف جاری اور بڑھتے ہوئے اقدامات کو مکمل طور پر ناقابلِ قبول قرار دیتے ہیں، کیونکہ یہ اقدامات اسرائیل کی بین الاقوامی قوانین کے تحت واضح ذمہ داریوں، بشمول اقوامِ متحدہ کے منشور اور اقوامِ متحدہ کے مراعات و استثنیٰ کے کنونشن، کے منافی ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل اسرائیل سے پُرزور مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فوراً شیخ جراح میں واقع انرووا کے کمپلیکس کی مسماری بند کرے اور اس کمپلیکس سمیت انرووا کی تمام املاک کو بلا تاخیر اقوامِ متحدہ کو واپس کرے اور انہیں بحال کرے۔

اسرائیلی بلڈوزروں نے منگل کی صبح 20 جنوری 2026  کو مشرقی بیت المقدس میں واقع انرووا کے صدر دفتر کے احاطے میں موجود متعدد عمارتوں کو مسمار کر دیا۔

اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے امداد و روزگارِ فلسطینی مہاجرین (انرووا) نے اسرائیل کی جانب سے اپنے صدر دفتر کی عمارتوں کو مسمار کیے جانے کو “ایک بے مثال حملہ” قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔

انرووا نے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فورسز نے اس ادارے کے عملے کا سامان ضبط کر لیا اور انہیں شیخ جراح کے علاقے میں واقع ان کے صدر دفتر سے زبردستی نکال دیا۔

دوسری جانب، اسرائیلی وزارتِ خارجہ نے اقوامِ متحدہ کے خلاف اس اقدام کی حمایت کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ انرووا کا صدر دفتر “کسی قسم کی سفارتی یا قانونی استثنیٰ کا حامل نہیں” اور اس کی ضبطی اسرائیلی قوانین اور بین الاقوامی قانون کے مطابق کی گئی ہے۔

اسرائیل کے وزیرِ قومی سلامتی ایتامار بن گویر نے اس دن کو “تاریخی دن” قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ خود موقع پر موجود تھے اور کارروائی کی نگرانی کر رہے تھے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha